15 ستمبر 2013 - 19:30
خود مختار ممالک امریکہ کے دباؤ میں نہ آئيں

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کےترجمان نے کہا ہے امریکہ کی جانب سے عدم جارحیت کی ضمانت سے ہی روس کی تجویز قابل عمل ہوسکتی ہے۔

ابنا: واضح رہے کہ روس نے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کو عالمی نگرانی میں دینے کےلئے چار مرحلوں پر مشتمل تجویز دی ہے جس کا پہلا مرحلہ شام کو کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے کنونشن میں شامل کرنا ہے۔یہ تجویز امریکہ کو دے دی گئي ہے۔  سیدحسین حسینی نے کہا کہ امریکہ اپنے مغربی اتحادیوں کے ہمراہ  کسی بھی صورت میں شام کے کیمیاوی ہتھیار تباہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر اس نے آج شام پرحملہ کردیا تو وہ ویتنام سے برے دلدل میں پھنس جائے گا، اسی وجہ سے امریکہ نے پسپائي اختیار کی ہے اور شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کو نابود کرنے کا بہانہ بنا رہا ہے۔ سیدحسین حسینی نے کہا کہ جب تک امریکہ اس بات کی ضمانت دے کہ وہ شام پر حملے نہیں کرےگا روس کی تجویز پر عمل نہیں کیاجانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہتر ہوگا کہ خود مختار ممالک امریکہ کے دباؤ میں نہ آئيں۔......./169